سر سید احمد خان کاتفسیری منہج-تعیینِ معنی کے تناظر میں تجزیاتی وتنقیدی مطالعہ

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

ڈاکٹر اعجاز احمد
حافظ محمد شہباز

Abstract

When Arabs intermixed with non-Arabs Arabic artistic taste decreased and lingual changes took place, as a result complications and difficulties emerged to understand the Holy Quran. Many words of the Holy Quran became unfamiliar. In this situation the need to refer to Arabic language felt with intensity. The Holy Quran due to its unique styles,eloquence and brevity has miraculous distinctive features. These peculiarities can not be opened without the skill and expertness in Arabic language.But language has secondary rank in the deduction of commandments from Quran. The negative pattern of premise of Arabic language is that which has no accordance with following arrangements: 1.Fixation of meaning by The Holy Quran. 2. Fixation of meaning by Hadith  .3. Fixation of meaning by context.  4.To consider and regard the meanings of the words which were in use at the occasion of divine revelation of  Quran.  5. To take into consideration the distinction of actual meaning and metaphorical meaning. 6.To prefer the religious terms and meaning of the words. Positive patterns of Fixation of meaning are not applied in the Tafseer and other books of Sir Syed Ahmad Khan.

##plugins.themes.academic_pro.article.details##

References

حوالہ جات و حواشی
1. ابن تیمیہ،تقی الدین احمد،امام،:اصول تفسیر،مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی(مترجم)،المکتبۃ السلفیۃ،شیش محل روڈ، لاہور، ص: ۴۷
2. ایضاً،ص: ۹۷۔۰۸ ٭ اٰل عمرٰن:۳/۵۸۱
3. سیوطی،جلال الدین،:الاتقان فی علوم القرآن (عربی) ۲/۰۹۱،مکتبۃ ال غزالی،دمشق،۱۰۴۱ھ/۱۸۹۱ء
4. البقرۃ:۲/۷
5. الزمخشری،جاراللہ،: الکشاف،دارالمعرفۃ،بیروت، ۱/۶۲۔۸۲
6. النساء ۴/۵۱۱ ۷؎ سید احمد خان ۷۱۔ اکتوبر ۷۱۸۱ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ مروجہ علوم حاصل کرنے کے بعد انگریزی حکومت کی ملازمت سے منسلک ہو گئے۔ تفسیر القرآن‘ خطبات احمدیہ اور آثار الصنادید وغیرہ کتب کے مصنف ہیں۔ ۰۷۸۱ء میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ آپ نے کئی رفاہی کام سر انجام دیے۔ آپ نے اسلام کی نئے زاویوں سے توجیہات کرتے ہوئے نئے مذہبی فکر کی تشکیل کی۔اس کی ایک مثال انکار معجزات ہے، پروفیسر محمد عمرالدین لکھتے ہیں:سرسید کا دعویٰ ہے کہ قرآن میں رسول اللہ کے کسی معجزے کا ذکر نہیں۔ اس سے رسول کی عظمت کم نہیں ہوتی بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔ سرسید پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ قرآن میں کسی معجزے کا ذکر نہ ہونا ہی آپ کی سچائی اور نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس سے ضمناً یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق آپ کے سرور انبیاء ہونے کے باوجود آپ سے کسی معجزے کے صدور کا قرآن ذکر نہیں کرتا تو دوسرے انبیاء سے معجزے صادر ہونا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ سرسید کا یہی مسلک ہے کہ قرآن میں پیغمبر اسلام یا گذشتہ نبیوں کے کسی معجزے کا ذکر نہیں۔ جن آیات سے انبیائے ماسبق کے معجزوں کا گمان ہوتا ہے ان کی وہ کوئی نہ کوئی عقلی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔(عمرالدین،پروفیسر، محمد،:سرسید احمد خان کا نیامذہبی طرزِفکر،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،لاہور،ص:۷۵،ط:۱،۵۹۹۱) سرسید احمد خان۸۲ مارچ ۸۹۸۱ء کو علی گڑھ میں فوت ہوئے۔
7. اسماعیل پانی پتی،مولانا،محمد (مرتب)،:مقالات سرسید، مجلس ترقی ادب، کلب روڈ، لاہور،ط:۲، ۴۸۹۱ء،۲/۳۵۲
8. الصٰفٰت: ۷۳/۳۴۱، ۴۴۱
9. مقالات سرسید ۲/۳۵۲
10. الانبیاء ۱۲/۷۸
11. دیکھئے مقالات سرسید،: ۲/۲۵۲
12. ایضاً
13. الانبیاء:۱۲/۹۶
14. النحل:۶۱/۴۴
15. البقرۃ:۲/۹۲۱، اٰل عمرٰن:۳/۴۶۱، الجمعۃ:۲۶/۳
16. البقرۃ:۲/۱۵۱
17. النحل:۶۱/۴۴
18. حسن مدنی،(مرتب)،:قرآن فہمی کے بنیادی اصول،مجلس التحقیق الاسلامی،ماڈل ٹاؤن،لاہور،ص: ۰۰۱۔۱۰۱
19. مقالات سرسید،:۲/۳۹۱
20. الجن:۲۷/۹۔(ترجمہ)”اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لیے انگارا تیار پائے۔“
21. مقالات سرسید ۲/۴۸۱
22. ایضاً ۲/ ۰۹۱
23. ایضاً ۲/ ۱۸۱
24. الزرکشی،برھان الدین،:البرھان فی علوم القرآن،دارالمعرفۃ،بیروت، ۲/۸۶۱
25. ابن حجر العسقلانی،احمد،الحافظ،:فتح الباری،رئاسۃ البحوث الاسلامیۃ……سعودی عرب، ۱/۶۷۲
26. ایضاً ٭ الحج: ۲۲/۸۱
27. عاصم الحداد،محمد،:اصول فقہ پر ایک نظر، اسلامک پبلشنگ ہاؤس،لاہور،ص:۶۹
28. غازی احمد (سابق کرشن لال): من الظلمات الی النور، المکتبۃ العلمیہ، لیک روڈ لاہور،ط: ۴۲،۲۰۰۲ء، ص:۳۲۲
29. الاحزاب۳۳/ ۸۶
30. الاحزاب: ۳۳/۶۶۔۸۶
31. سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج ضلع چکوال
32. ایضاً ص: ۴۲۲۔۵۲۲
33. احمد یار، حافظ،: قرآن وسنت، شیخ زاید اسلامک سنٹر، جامعہ پنجاب لاہور،ط: ۰۰۰۲ء، ص:۰۶۲
34. مقالات سرسید،: ۲/۶۴۲
35. ایضاً ۲/۷۸
36. ایضاً ۲/۹۲
37. ایضاً ۲/۸۱۲
38. ایضاً۲۱/۶۱۲،۷۱۲
39. مقالات سرسید،:۲/۹۱۲ ٭ النجم: ۳۵/ ۳۔۴
40. سرسید احمد خان،:تفسیر القرآن،دوست ایسوسی ایٹس،اردو بازار،لاہور،ص: ۵۲
41. النجم: ۳۵/ ۵۔۶ ٭ الرعد:۳۱/۱۳
42. کیلانی،عبدالرحمن،مولانا،:آئینہ پرویزیت،مکتبۃ السلام،وسن پورہ،لاہور، ص: ۰۰۱
43. ایضاً،ص: ۱۰۱
44. اصول التفسیر، ص:۳۷،۴۷
45. مفسر تفسیر اشرف الحواشی و مترجم المفردات فی غریب القرآن للراغب الاصفہانی
46. قرآن فہمی کے بنیادی اصول، ص:۹۲
47. مقالات سرسید،: ۲/۴۵۲
48. ایضاً ۲/۴۰۱۔۵۰۱
49. ایضاً ۲/۳۱ ۰۵؎ ایضاً ۲/۵۰۲
50. مقالات سرسید،: ۲/۵۵۱۔۶۵۱
51. ایضاً ۲/۴
52. ایضاً ۲/۶۲ ،۸۲۔۰۳
53. البقرۃ:۲/۷۲
54. مقالات سرسید،: ۲/۵۳۔نیز دیکھیے صفحہ:۶۳،۷۳،۵۵،۲۹،۴۹۔۵۱۱
55. مقالات سرسید،:۲/۶۳
56. الفیل:۵۰۱/۳
57. ایضاً ۲/ ۷۱۱۔۸۱۱
58. ایضاً ۲/۹۱۱۔ ۰۲۱
59. محمد: ۷۴/ ۷۲
60. الانفال: ۸/ ۲۱
61. البقرۃ:۲/ ۳۷
62. النساء:۴/۴۳
63. البقرۃ:۲/ ۰۶، الاعراف:۷/ ۰۶۱
64. الشعراء:۶۲/۳۶
65. النحل ۶۱/۵۷
66. البقرۃ: ۲/۰۶
67. تفسیر القرآن،: ۱/۱۹
68. النساء: ۴/ ۴۹
69. النساء: ۴/ ۱۰۱
70. المائدۃ: ۵/ ۶۰۱
71. اٰل عمرٰن ۳/۶۵۱
72. البقرۃ ۲/ ۳۷۲
73. تقی عثمانی،مفتی،: علوم القرآن اور اصول تفسیر، مکتبہ دارالعلوم، کراچی، ص: ۹۹۳
74. ایضاً، ص: ۱۰۴۔
75. مولانا محمد انور گنگوہی: مشکلات القرآن، ادارہ تالیفات اشرفیہ بیرون بوہڑ گیٹ، ملتان، ص: ۳۴
76. مثلاً دیکھیے الکشاف ۱/۷۲۔
77. مقالات سر سید ۲/۰۵۲۔
78. ایضاً ۲/۱۵۲۔
79. ایضاً ۴۱/۸
80. الطاف حسین حالی،: حیات جاوید، ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی، ط: ۹۷۹۱ء،ص: ۰۳۵
81. مقالات سر سید،: ۲/۰۶۱۔ ۴۶۱
82. ایضاً ۲/۷۳۱۔ ۹۴۱
83. الجن:۲۷ / ۱۱
84. الجن:۲۷ / ۴۱
85. دیکھیے ایضاً ۲/۲۴۱۔۶۴۱
86. الحجر: ۵۱/ ۷۲
87. حیات جاوید، ص:
88. سبا: ۴۳/۹
89. الشعراء/۶۲/ ۷۸۱
90. مقالات سر سید،: ۲/۰۰۱۔۱۰۱