امام مازریؒ اور ان کی المعلم بفوائد مسلم تعارف و تجزیہ Imam Marzi and His Almualim Bfawaid Muslim: Introduction and Analysis Section Urdu

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

Abstract

The article under discussion is about al-Mu,lim,a commentary of al-Jami, Al Sahih by a renowned muhaddith , imam Muslim .The commentator of al_Mu,lim, imam Mazri belonged to al_ Magrib .He was a proficient student and a teacher of Hadith .He was considered as one of the forerunner commentator of this compendia .In his lecture to students, he focused on different aspects ofal_jami,. He elaborated the silent features of this compendia .Some of the brilliant student jotted down the lectures of his teacher. On the completion of this commentary of Ahadith_ e_ Sahiha, his students sought the permission from their respectable teacher for bublication of the material . The remarkable teacher allowed the publication and also went through the jotted down material .Thus, in such a way this commentary reached to the coming generations.Imam Mazri has explained the main features and qualities of al_Jami. He discussed the Sanad and Matan both in his lectures.We have tried to derive silent features of this commentary .Hopefully the youngsters will add to it.

##plugins.themes.academic_pro.article.details##

References

۔ امام مازری کی نسبت مازر کی طرف ہے جو صقلیہ کا ایک شہر تھا۔ امام مازری کے اجداد مازر سے تعلق رکھتے تھے۔ صقلیہ میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس دور میں امام مازری کا خاندان تونس کے اہم شہر مھدیہ منتقل ہو گیا اور اسی کو اپنا مستقر بنا لیا۔ (حسن حسنی عبد الوھاب، الامام المازری، ۵۰، دارالکتب الشرقیۃ تونس، ۱۹۵۵؛ مازر اور صقلیہ کے لیے دیکھیے: معجم البلدان، ۵/۴۰؛ ۳/۴۱۶، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۹۷۹ء / ۱۳۹۹ھ)
۔ امام مازری کے تذکرہ نگار ان کے سال وفات پر متفق ہیں لیکن بالعموم سال ولادت کا ذکر نہیں کرتے۔ ابن خلکان (م۶۸۱ھ)، امام ذھبی (م۷۴۸ھ)، ابن فرحون (م۷۸۹ھ)، ابن العماد الحنبلی (م۱۰۸۹ھ) وغیرھم نے لکھا ہے کہ انہوں نے تراسی (۸۳) سال عمر پائی، اس حساب سے ان کا سال پیدائش ۴۵۳ھ بنتا ہے۔ عصر حاضر کے مؤلفین میں عمر رضا کحالہ، خیر الدین زرکلی وغیرہ نے بھی یہی سال لکھا ہے۔ (وفیات الأعیان، ۴ / ۲۸۵، مطبعہ امیر،قم؛ سیر أعلام، ۲۰ / ۱۰۵، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۴۰۶ھ/ ۱۹۸۶ء؛ الدیباج، ۳۷۴، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۱۷ھ/ ۱۹۹۶ء؛ شذرات الذھب، ۴/۱۱۴، دار المسیرۃ، بیروت، ۱۳۸۹ھ / ۱۹۷۹ء؛ معجم المؤلفین، ۱۱/۳۲، دار احیاء التراث العربی، بیروت؛ الأعلام، ۶/۲۷۷، دارالعلم للملایین، بیروت، ۱۹۹۷ء
۔ مھدیہ، تونس کے مشرقی ساحل پر سوس اور سفقص کے درمیان ایک جزیرہ نما شہر جو پہلے فاطمی خلیفہ عبید اللہ المھدی (۲۹۷ھ ۔ ۳۲۲ھ) نے ۳۰۰ھ میں بسایا اور اُسی کی نسبت سے مشہور ہوا۔ (معجم البلدان، ۵ / ۲۲۹) امام مازری کی ولادت اور ابتدائی نشوونما کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ ظنِ غالب ہے کہ وہ افریقہ کے شہر مھدیہ یا قیروان میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم و تربیت مھدیہ میں ہوئی۔ مصادر کے تتبع سے ان کے کسی ایسے شیخ کا تعین نہ ہو سکا جو مازر سے ہو۔
۔ امام مازری کے عرصہ حیات میں زیری صنہاجی خاندان برسرِ اقتدار رہا۔ معز (۴۰۶ھ۔ ۴۵۴ھ) کے دور میں پیدا ہوئے اور آخری امیر حسن بن علی (۵۱۵ھ۔ ۵۴۳ھ) کے دور میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ امام مازری نے اپنی زندگی میں افریقہ اور اندلس میں کئی سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے، البتہ وفات کے وقت مھدیہ کے حالات نسبتاً پُرسکون تھے۔ مغرب و افریقہ کی تاریخ کے سرسری جائزے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب افریقہ مسلمانوں کے زیرِ اقتدار آیا تو وہاں کے معروف بعض بربر اور عرب خاندان مختلف علاقوں میں برسرِ اقتدار رہے جن کے درمیان بالعموم سیاسی رسہ کشی جاری رہتی۔ بربر کا ایک مشہور قبیلہ صنھاجہ ،جو دو ذیلی خاندان بنو زیری صنھاجی اور بنو حماد پر مشتمل تھا ، نے شمالی افریقہ کے مختلف شہروں میں فاطمی خلفاء کے نائب کے طور پر حکومت کی۔ بنو زیری کا پہلا نائب حکمران یوسف بلقین بن زیری (۳۶۱ھ۔ ۳۷۳ھ) تھا جس کا صدر مقام قیروان تھا۔ معز کی تعلیم و تربیت سنی عقیدے کے مطابق ہوئی تھی لہذا وہ رافضی شیعی عقائد کو ناپسند کرتا تھا اور یہی احساسات عوام کی اکثریت کے تھے۔ معز نے فاطمی اثر و رسوخ سے نجات حاصل کرنے کا برملا اعلان کیا اورمنبر و مساجد سے تبری بند ہوا۔ دیگر عقائد باطلہ کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی۔ ابنِ خلدون لکھتے ہیں: کان المعز منحرفاً عن مذاھب الرافضۃ ومنتحلاً للسنۃ، فاعلن لأول ولایتہ ولعن الرافضۃ ۔۔۔ (کتاب العبر ودیوان المبتدا، ۶ / ۱۸۷، دارالکتب العربیۃ، بیروت، ۲۰۰۳ء / ۱۴۲۴ھ): جواب میں مصر کی فاطمی حکومت نے دو عرب جنگجو قبائل بنو سلیم اور بنو ھلال کے ذریعے قیروان پر حملہ کرایا۔ ان قبائل کا حملہ بنو زیری کے لیے مصیبتِ عظمیٰ ثابت ہوا۔ قیروان کو تباہ و برباد کر دیا گیا حتیٰ کہ خود المعز کو مھدیہ میں پناہ لینی پڑی۔ قیروان کی تمدنی و سیاسی زندگی شدید متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں عوام اور اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد افریقہ کے مختلف شہروں مثلاً تونس اور مھدیہ وغیرہ میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئی۔ تونس منتقل ہونے والے اہلِ علم میں نمایاں ابو الحسن اللخمی (م۴۷۸ھ) اور عبد الحمید بن محمد الصائغ (م۴۸۶ھ) تھے۔ انہوں نے مھدیہ کو دینی و علمی خدمات کا مرکز بنایا اور سنی عقائد کی تشہیر و ترویج میں مصروف ہو گئے۔ امام مازری نے ان کبار شیوخ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل کی اور بہت جلد ان میں رسوخ حاصل کر لیا۔ تونس میں علم حدیث اور فقہ مالکی کی علمی سند کی روایت امام مازری اور ان کے تلامذہ کے توسط سے بغیر کسی انقطاع کے آٹھویں صدی ہجری کے آخر تک جاری رہی، جن میں نمایاں شیخ الشیوخ ابن عرفہ (م۸۰۳ھ) تھے۔ (مأخوذ: ابن العذاری المراکشی، البیان المغرب فی أخبار المغرب و الاندلس، ۱ / ۲۲۸ ۔ ۳۰۸، بیروت، ۱۹۸۳ء؛ ابنِ خلدون، کتاب العبر، ۶ / ۱۳۔۱۶، ۱۸۳۔۱۸۷؛ احمد مختار العبادی، فی تاریخ المغرب والاندلس، ۱۲۔۱۶، دارالنھضہ العربیہ، بیروت؛ الامام المازری، ۳۴۔۳۶)
۔ الدیباج، ۳۷۵؛ الذھبی، سیر أعلام، ۲۰ / ۱۰۴؛ محمد مخلوف، شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۷، مطبعہ سلفیہ، قاہرہ، ۱۳۴۹ھ؛ ابو عبد اللہ محمد بن عبد الملک المراکشی، ذیل تکملۃ، ۵ / ii / ۵۷۱، دارالثقافہ، بیروت۔
۔ محمد الشاذلی محقق المعلم کے بقول وہ مغرب میں بذریعہ اجازت اہلِ علم کو مستفید کرنے میں مشرق کے ابو طاہر السلفی کے ہم پلہ ہیں۔ (المعلم، ۱/۶۶)
۔ سیر أعلام، ۲۰ / ۱۰۶؛ شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۷، ۱۴۳۔۱۵۲
۔ الدیباج، ۳۷۵؛ سیر أعلام، ۲۰ / ۱۰۶
۔ المعیار، ۶ / ۱۲۱، طبعہ فاس بحوالہ الامام المازری، ۵۶
۔ الصفدی، الوافی بالوفیات، ۴ / ۱۵۱ بحوالہ المعلم (مقدمہ)، ۱/۱۰۰
۔ المعیار، ۶ /۱۲۱ بحوالہ الامام المازری، ۵۶
۔ قاضی عیاض، الغنیۃ، ۶۵
۔ شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۷
۔ وفیات الأعیان، ۴ / ۲۸۵
۔ الدیباج، ۳۷۵
۔ تاریخ الاسلام، ۳۶ /۴۲۵
۔ ازھار الریاض، ۳ / ۱۶۶، مطبعہ فضالہ۔
۔ شذرات، ۴ / ۱۱۴
۔ تاریخ الاسلام، ۳۶ / ۴۲۴؛ سیر أعلام، ۲۰ / ۱۰۶؛ شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۷؛ الدیباج، ۳۷۵؛ معجم المؤلفین، ۱۱ / ۳۲
۔ مھدیہ اور سوسہ کے درمیان ایک بستی جو صالحین اور مجاہدین کا مسکن تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے مکینوں کی اکثریت نسلاً قریشی تھی۔ اہل قیروان اپنے صدقات و اموال مرابطین اور مجاہدین کے لیے یہاں بھیجا کرتے تھے۔ اس کی اہمیت و عظمت کے بارے میں متعدد روایات بیان کی گئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق افریقہ کا یہ ساحلی علاقہ جنت کا ایک دروازہ ہے۔ تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ بارہویں صدی ہجری کے آخر میں سمندری طوفان آیا جس کی تیز و تند لہروں نے وہاں مدفون امام مازری اور بعض دوسرے صالحین کی قبروں کو متاثر کیا۔ حسینی خاندان کے اس وقت کے امیر نے امام مازری اور دوسرے صالحین کے جسدِ خاکی کو مقبرہ منستیر منتقل کرنے کا حکم دیا۔ (شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۸؛ معجم البلدان، ۵ / ۲۰۹؛ ماخوذ: الامام المازری، ۹۵۔۹۶؛ التجانی، رحلۃ، ۲۵۔۳۲، شرکہ الجدیدہ تونس، ۱۹۸۰ء)
۔ وفیات، ۴ / ۲۸۵؛ الدیباج، ۳۷۴؛ شجرۃ النور، ۱ / ۱۲۷؛ النجوم الزاھرۃ، ۵ / ۲۶۹؛ شذرات، ۴ / ۱۱۴؛ ابن فھد، ذیل تذکرۃ الحفاظ، ۵۲، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۲۰۱۲ء
۔ یہ شرح شیخ محمد الشاذلی النیفر کی تحقیق کے ساتھ الموسسۃ الوطنیہ بیروت سے ۱۹۹۱ء میں شائع ہو چکی ہے۔ راقمہ نے اسی طبع (edition) سے استفادہ کیا ہے۔
۔ میسر مصادر میں صحیح مسلم کی کسی ایسی کتاب / شرح کا ذکر نہیں ملتا جو پوری کتاب پر مشتمل ہو البتہ چند ایسی شروح کا ذکر ضرور ملتا ہے جو اسکے کسی خاص پہلو یا کسی خاص کتاب پر مشتمل تھی۔ مثلاً ابو الحسن عبد الغافر فارسی (م۵۲۹ھ) کی المفھم فی شرح غریب مسلم، ابو القاسم اسماعیل بن محمد (م۵۳۵ھ) کی شرح الصحیحین (مکمل نہ کر سکے اوراب مفقود ہے)، محمد بن احمد التجیبی کی شرح خطبۃ الکتاب مع کتاب الایمان، عبد السلام بن ابو عبد الرحمٰن (م۵۳۰ھ) کی الارشاد فی شرح مسلم وغیرہ۔
۔ اکمال المعلم، ۱ / ۷۲، دارالوفاء منصورہ، قاہرہ، ۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸ء
۔ المعلم، مقدمۃ المحقق، ۱ / ۲۶۹
۔ ابن الابار، تکملۃ الصلۃ، ۲ / ۳۱۲، دارالفکر بیروت، ۱۴۱۵ھ
۔ المقدمۃ، ۴۱۱، دارالکتاب العربی، ۱۴۲۲ھ / ۲۰۰۱ء
۔ امام مازری نے دورانِ شرح متنوع علوم پر بنیادی مصادر کو بڑی مہارت سے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے بعض ایسے بنیادی مصادر کی بھی نشاندہی کی ہے جو دستِ برد زمانہ کے ہاتھوں ضائع ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے ایسے مؤلفین اوران کے بعض اقوال و روایات کو المعلم میں محفوظ کر دیا ہے جو ہمارے لیے نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں۔
۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: المعلم، مقدمۃ المحقق، ۱ / ۱۶۲۔۱۷۸
۔ المعلم، ۱ / ۲۷۱
۔ مسلم بن الحجاج، الجامع الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء و الصلاۃ عقبہ، حدیث: ۵۴۵؛ المعلم، ۱ ̸ ۳۴۹
آئندہ حوالہ جات میں امام مسلم کی الجامع الصحیح کے لیے الجامع استعمال کیا جائے گا اور حدیث کی ترقیم اور ابواب کے عنوانات ، دارالسلام ۱۴۲۱ھ /۲۰۰۰ء کے طبع سے لیے گئے ہیں۔
۔ الجامع، کتاب الصلوٰۃ، باب الجمع بین الصلوتین، حدیث: ۱۶۳۲؛ المعلم، ۱/۴۴۷؛ الجامع کے زیرِ استعمال نسخہ میں ابو طفیل عامر بن واثلہ ہی ہیں۔
۔ الجامع، کتاب الزکاۃ، باب اباحۃ الأخذ بغیر سؤال ولا تطلع لمن اعطی، حدیث: ۲۴۰۵، ۲۴۰۷؛ المعلم، ۲/۲۸۔۲۹
۔ الجامع، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء، حدیث: ۲۶۶۰؛ المعلم، ۲/۵۷؛ صحیح مسلم کے زیر استعمال نسخہ میں بھی ابن نمیر ہی ہے۔
۔ الجامع، کتاب البیوع، باب الشفعۃ، حدیث: ۴۱۳۷؛ المعلم، ۲/۳۳۱
۔ تصحیف اس تغیر و تبدیلی کو کہتے ہیں جس میں خطا ہو ۔ یہ غلطی متن اور سند دونوں میں ہو سکتی ہے۔ اس مقام پر سند میں غلطی ہوئی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: ڈاکٹر خالد علوی، اصول الحدیث: مصطلحات و علوم، ۱̸ ۶۱۶۔ ۶۲۷، الفیصل ناشران لاہور، ۲۰۱۴ء
۔ الجامع، کتاب البیوع، باب قدر الطریق، حدیث: ۴۱۳۹؛ المعلم، ۲/۳۳۱
۔ الجامع، کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، حدیث: ۴۴۳۱؛ المعلم، ۲/۳۹۴۔ مزید مثالوں کے لیے دیکھیے: الجامع ، کتاب الایمان، باب الامر بالایمان باللہ ورسولہ۔۔۔، حدیث: ۱۲۰ ؛ المعلم، ۱/۲۸۸؛ الجامع ، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد التشھد، حدیث: ۹۱۰؛ المعلم، ۱/۳۹۶؛ الجامع ، کتاب الجنائز، باب المیت یعذب ببکاء اھلہ علیہ، حدیث: ۲۱۵۷؛ المعلم، ۱/۴۸۵؛ الجامع ، کتاب البیوع، باب تحریم الاحتکار فی الاقوات، حدیث: ۴۱۲۴؛ المعلم،۲/۳۲۳؛ الجامع، کتاب الامارۃ، باب کراھۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ، حدیث: ۴۷۱۹؛ المعلم،۳/۵۵۔۵۶
۔ الجامع، کتاب الایمان، باب بیان أنہ لا یدخل الجنۃ، حدیث: ۱۹۶؛ المعلم، ۱/۲۹۳
۔ الجامع، کتاب الایمان، باب بیان خصال المنافق، حدیث: ۲۱۱؛ المعلم، ۱/۲۹۴
۔ الجامع، کتاب الصلوۃ، باب وجوب قرا ء ۃ۔۔۔، حدیث: ۸۷۶؛ المعلم، ۱/۳۹۴
۔ الجامع، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات التی نھی۔۔۔، حدیث: ۱۹۲۵؛ المعلم، ۱/۴۶۵
۔ الجامع، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ۔۔۔ حدیث: ۳۲۶۲؛ المعلم، ۲/۱۱۰۔۱۱۱
۔ الجامع، کتاب اللباس، باب تحریم استعمال۔۔۔، حدیث: ۵۴۰۹؛ المعلم، ۳/۱۲۹۔ مزید مثالوں کے لیے دیکھیے:
الجامع، کتاب الایمان، باب معرفۃ الایمان والاسلام، حدیث ۹۳؛ المعلم، ۱/۲۷۷؛ الجامع، کتاب النکاح، باب استحباب نکاح البکر، حدیث: ۳۶۴۱؛ نکاح ذات الدین، حدیث: ۳۶۳۵، ۳۶۳۶؛ المعلم، ۲̸ ۱۸۰۔۱۸۱ ؛ الجامع، کتاب الامارۃ، باب فضل الجھاد و الرباط، حدیث ۴۸۸۹؛ المعلم، ۳/۵۹
۔ الجامع ، کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء، حدیث: ۵۳۴ ؛ المعلم، ۱/۳۴۷۔۳۴۸
۔ الجامع، کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود،حدیث: ۱۰۹۰ ؛ المعلم، ۱/۴۰۴
۔ ابو داؤد، السنن، کتاب الفرائض، باب ھل یرث المسلم الکافر،حدیث۲۹۱۲
۔ الشوکانی، محمد بن علی بن محمد، نیل الاوطار، ۱۱۶۰، بیت الافکار، لبنان ۲۰۰۴ء
۔ ابو داؤد، السنن، کتاب الفرائض، باب ھل یرث المسلم الکافر، حدیث ۲۹۱۲، نشر و توزیع، محمد علی السید ، ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء
۔ الجامع، کتاب الفرائض، حدیث: ۴۱۴۰؛ المعلم، ۲/۳۳۳۔۳۳۵
عصرِ حاضر میں اختلاف دین کے باعث غیر مسلم اقرباء کی وراثت کے مسئلہ نے بھی بڑی اہمیت حاصل کر لی ہے لہذا یہ مسئلہ اسلامی دنیا کی معروف افتاء کمیٹیوں کے زیر بحث آ چکا ہے۔ معروف عالم و فقیہ علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور یورپی افتاء کونسل کے دیگر اراکین کی طرف سے دئیے گئے فتویٰ میں غیر مسلم اقرباء کی وراثت سے حصہ لینے کا جواز موجود ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ امام مازری کو بھی اپنے گردو پیش رہائش پذیر مختلف ملتوں کے افراد کو پیش آنے والے مسائل میں سے اس مسئلہ کا ادراک تھا سو وہ اس مسئلہ میں مالکی مسلک کو بدلائل ترجیح دیتے نظر نہیں آتے بلکہ مختلف مذاہب کے نقطہ ہائے نظر بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
غیر مسلم ریاستوں میں مقیم مسلم اقلیت کو شرعی معاملات میں متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ الحمد للہ ہمارے فقہاء اور اہلِ علم نے اس کی طرف بھر پور توجہ دی ہے، یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو پیش آمدہ مسائل اور ان کے حل سے روشناس ہونے کے لیے درج ذیل مقالہ مفید ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر نصرت جبیں، فقہ الاقلیات کے مطالعے کے جدید رجحانات، غیر مطبوع پی ایچ ڈی مقالہ، ادارہ علومِ اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی، ۲۰۰۸ء
۔ الجامع،کتاب الایمان، باب لا ترجعوا بعدی کفارا۔۔۔ حدیث: ۲۲۵؛ المعلم، ۱/۲۹۷
۔ البقرۃ، ۲/ ۸۳، ۱۱۰، ۲۷۷؛ النساء، ۴/ ۷۷؛ التوبۃ، ۹/ ۵، ۱۱، ۷۱؛ المائدہ، ۵ / ۵۵؛ النور، ۲۴ / ۵۶؛ المزمل، ۷۳/۲۰؛ النمل، ۲۷ / ۳ اور دیگر مقامات
۔ الجامع، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس۔۔۔ حدیث: ۱۲۴؛ المعلم، ۱/۲۸۸
۔ الجامع، کتاب الطھارۃ، باب حکم ولوغ الکلب، حدیث: ۶۴۸۔۶۵۳؛ المعلم، ۱/۳۶۲
۔ الجامع، کتاب الزکوٰۃ، باب ما فیہ العشر۔۔۔، حدیث: ۲۲۷۲ ؛ المعلم، ۲/۷
۔ الجامع، کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ، حدیث: ۳۴۱۶، ۳۴۲۲۔۳۴۲۳، ۳۴۲۶، ۳۴۲۷؛ المعلم، ۲/۱۳۱
۔ الجامع،کتاب البیوع، باب تحریم الظلم۔۔۔، حدیث: ۴۱۳۷؛ المعلم، ۲/۳۳۰
۔ الجامع، کتاب العتق، باب فضل عتق الوالد، حدیث: ۳۷۹۹؛ المعلم، ۲/۲۳۱۔۲۳۲؛ فقہی مسائل سے متعلق مزید مثالوں کے لیے دیکھیے: الجامع،، کتاب الطھارۃ، باب حکم و لوغ الکلب، حدیث: ۶۴۸۔۶۵۳؛ المعلم، ۱/۳۶۲؛ الجامع، کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ، حدیث : ۳۴۱۶۔۳۴۱۸، ۳۴۲۲۔۳۴۲۶؛ المعلم، ۲ /۱۳۰۔۱۳۱؛ الجامع، کتاب الجنائز ، باب فی التکبیر علی الجنازہ، باب الصلوۃ علی القبر، حدیث: ۲۲۰۴۔۲۲۰۵، ۲۲۰۷، ۲۲۱۲، ۲۲۱۶؛ المعلم، ۱ /۴۸۸۔۴۸۹؛ الجامع، کتاب الطہارۃ، باب طھارۃ جلود المیتۃ بالدباغ، حدیث: ۸۰۶؛ المعلم، ۱/۳۸۰
۔ اسباب ترجیح کے لیے ملاحظہ کیجئے: السیوطی، بن ابو بکر، جلال الدین عبد الرحمٰن ، تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، ۲/۱۷۵۔۱۸۱ ، دارالکتاب العربی، بیروت الطبعۃ الاولیٰ، ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵ء
۔ الجامع، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ اللیل۔۔۔ حدیث: ۱۷۲۳
۔ الجامع، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔۔۔ حدیث: ۱۵۶۲۔ ۱۵۶۴ ؛ المعلم، ۱/۴۳۸۔۴۳۹
۔ الجامع، کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد، حدیث: ۲۲۵۴؛ المعلم، ۱/۴۹۱۔۴۹۲
السنن ابو داؤد میں بروایت ابو ہریرہؓ یہ حدیث بھی مروی ہے: من صلی علی جنازۃ فی المسجد فلا شئی علیہ۔ جس نے مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی اس پر کوئی گناہ نہیں۔ السنن، کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد، ۳/۵۳۱، رقم الحدیث ۳۱۹۱، حمص الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۷۱ء
۔ الجامع، کتاب الطاعون، باب لا عدوی ولا طیر۔۔۔، حدیث: ۵۷۸۸؛ لا یورد ممرض علی مصح ، حدیث: ۵۷۹۱، ۵۷۹۲ ؛ المعلم، ۳/۱۷۶؛ مزید مثالوں کے لیے دیکھیے: الجامع، کتاب الایمان، باب قولہ علیہ السلام نور انّی أرأہ۔۔۔، حدیث: ۴۴۳۔۴۴۴؛ المعلم، ۱ ̸ ۳۳۴۔۳۳۵
۔ الجامع ، کتاب الجنائز، باب المیت یعذب بیکاء أھلہ علیہ، حدیث: ۲۱۴۲؛ المعلم، ۱/۴۸۴
۔ الجامع، کتاب السلام، باب لکل داء دواء ۔۔۔، حدیث: ۵۷۴۱؛ المعلم، ۳/۱۶۸
۔ الجامع، کتاب الفضائل، باب بیان مثل ما بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ حدیث: ۵۹۵۳؛ المعلم، ۳/۲۱۵؛ مزید مثالوں کے لیے دیکھیے: الجامع، کتاب الطھارۃ، باب التیمم، حدیث: ۸۱۶؛ المعلم، ۱ ̸ ۳۸۳؛ الجامع، کتاب الایمان، باب الاسراء، حدیث: ، ۴۱۵ ، ۴۲۰۔۴۲۳؛ المعلم ، ۱ ̸ ۳۳۰، ۳۳۱؛ کتاب الحج، باب سفر المرأۃ، حدیث: ۳۲۶۳؛ المعلم، ۲ ̸ ۱۱۱؛ الجامع، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم۔۔۔ استعمال الحریر علی الرجال وابا حتہ للنساء، حدیث: ۵۴۲۱، ۵۴۲۲؛ المعلم، ۳/۱۳۰
۔ الجامع، کتاب الایمان، باب الدلیل علی۔۔۔۔، حدیث: ۱۳۶؛ المعلم، ۱/۲۸۹۔۲۹۰
۔ الجامع، کتاب الحدود، باب الحدود کفارات لا ھلھا، حدیث: ۴۴۶۱؛ المعلم، ۲/۳۹۸
۔ حاکم و قاضی کی صفات کے لیے دیکھیے: ماوردی، الأحکام السلطانیۃ، مکتبہ دارا بن قتیبہ، کویت، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء متعلقہ مباحث؛ ابو یعلی، الأحکام السلطانیہ متعلقہ مباحث، مصطفیٰ البالی الحلبی، مصر، ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۰ء ؛ مولانا گوہر رحمان، اسلامی سیاست، متعلقہ مباحث، مکتبہ معارف اسلامی منصورہ، لاہور، جون ۱۹۹۸ء
۔ الجامع، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ، حدیث: ۶۱۷۸، ۶۱۸۱؛ المعلم، ۳/۲۳۸۔۲۴۰
۔ الجامع، کتاب القدر، باب کیفیۃ الخلق الآدمی فی بطن أمہ۔۔۔، حدیث: ۶۷۳۱؛ المعلم، ۳/۳۰۹۔۳۱۰:
نیز دیکھیے: الجامع، کتاب الایمان، باب معرفۃ طریقۃ الرؤیۃ، حدیث: ۴۵۱، ۴۵۴؛ المعلم، ۱ ̸ ۳۳۶