بین الاقوامی تعلقات کی تفہیم و وسعت: مسلمانوں کی علمی خدمات سےاستفاد ہ کی ضرورت Scope and Understanding of the International Relations: A Need for Benefitting From the Educational Services of the Muslims Section Urdu

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

ندیم عباس
ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس

Abstract

Unity, brotherhood, love, and harmony are of fundamental importance for the peace of nations, societies, tribes and states, otherwise, clashes and differences of civilization and ideologies may cause the possibilities of war and disharmony. In such case, it is necessary to endeavour for the legislation related to international relations, its promotion and implementation. The laws made by Islam for the peace of nations have key role in strengthening the mutual relations. Keeping in view the importance of international relations, the Muslims for the importance and in an attempt for the practical implementation of these laws, have rendered valuable services. The services rendered by the Muslims can help in further strengthening the contemporary international relations economically, socially, and culturally as well as further promoting peace, mutual brotherhood, and rights of the minorities, international contracts and trade, safety of women, children, old people, religious leaders, ambassadors and war prisoners. This can help improving the international relations.

##plugins.themes.academic_pro.article.details##

References

1. قلعجی ،محمد رواس و قنیبی، حامد صادق، معجم لغۃ الفقہاء ، دار النفائس للطباعۃ والنشر والتوزیغ ،1988ء ،۱/۲۵۳ ۔
2. جوہری ، اسماعیل بن حمادلغت کے امام ہیں ، ۔ آپ کی کتب میں ’’الصحاح ، العروض اور النحو ‘‘ شامل ہیں ۔ ۱۰۰۳ھ کو وصال ہوا۔(معجم الادباء،ج ۲،ص۲۶۲ ، الاعلام للزرکلی،ج۱،ص۳۱۲)
3. جوہری ،اسماعیل بن حماد، ابو نصر ،الصحاح تاج اللغۃ و صحاح الئربیۃ ،بیروت :دار العلم للملائیین،۱۹۸۷ء ،۲/۶۹۱
4. کاسانی حنفی، ابو بکر بن مسعود بن احمد ،علاؤالدین کاسانی (۵۸۷ھ236۱۱۹۱م) ۔ آپ حلب کے رہنے والے تھے اور وہاں ہی آپ کا وصال ہوا۔ فقہ حنفی سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کی تصانیف میں سے : بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ، سلطان المبین فی اصول الدین شامل ہیں ۔ (الأعلام للزرکلی۲/۷۰)
5. کاسانی حنفی ، ابو بکر بن مسعود بن احمد ، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،بیروت:دار الکتب العلمیۃ ،۱۹۸۶ء، ۱۵/۲۶۹ ۔
6. علی فرغانی ، علی بن ابو بکر ،المرغینانی ۔(۵۳۰۔۵۹۳ھ) آپ کا شمار اکابرین فقہاء احناف میں ہوتا ہے۔) آپ کی تصانیف میں سے : بدایۃ المبتدی ، الھدایہ فی شرح البدایۃ ، منتقی الفروع، الفرائض ،التجنیس والمزید ، مختارات النوازل وغیرہم ہیں ۔ (الأعلام للزرکلی ۴/۲۶۶)
7. علی فرغانی ،علی بن ابو بکر بن عبد الجلیل مرغینانی، الھدایۃ فی شرح البدایۃ،بیروت:دار احیاء التراث العربی،۱۴۱۱ء ،۲/۵۰ ۔
8. ابن عابدین محمد امین بن عمر شامی (۱۱۹۸۔۱۲۵۲ھ) آپ شامی فقیہ اور ہم عصر فقہائے احناف کے امام تھے۔ آپ نے کئی کتب تحریر کیں جن میں : رد المحتار علی الدر المختار ، حاشیۃ علی المطول ، الرحیق المختوم (فی الفرائض ) اور مجموعہ رسائل ابن عابدین وغیرہم شامل ہیں۔ (الأعلام للزرکلی ۶/۴۲(
9. ابن عابدین شامی ، محمد امین بن عمر الدمشقی،حاشیہ ابن عابدین ،ملتان :مکتبہ امدادیۃ ،۱۹۹۶ء، ۱/۵۴۔
10. سرخسی ، محمد بن احمد بن سہل ،شمس الآئمہ ، آپ کا تعلق خراسان کے علاقہ سرخس سے تھا ،مجتہد ،قاضی ،کبار احناف میں سے تھے۔فقہ حنفی پر بہت کام کیا اور بہت سی کتب تحریر کیں ۔آپ نے زیادہ تر شروحات لکھی ہیں ۔ جس طرح : شرح لکتاب السیر الکبیر ، شرح لکتاب السیر الصغیر ، شرح الزیادات الزیادات ،الاصول ، شرح مختصر الطحاوی ، اور المبسوط بھی آپ کی کاوش کا نتیجہ ہے ۔ (الاعلام للزرکلی ۵/۳۱۵)
11. السرخسی ،محمد بن احمد شمس الائمہ سرخسی، المبسوط ،بیروت: دار المعرفۃ، ۱۴۰۶ ھ،۱۱/۴۸۰۔
12. ابو زہرہ مصری ،محمد بن احمد (۱۳۱۶۔۱۳۹۴م) ۔ محلۃ الکبری میں پیدا ہوئے اور قاہرہ میں وصال ہوا، جامعہ قاہرہ میں کلیہ حقوق کے ڈین رہے ہیں ، ۔ چاروں آئمہ (امام ابو حنیفہ ، امام مالک ،امام شافعی ،امام احمد بن حنبل) پر ضخیم کتب لکھیں ۔ان کے علاوہ:الاحوال الشخصیۃ ، الوحدۃ الاسلامیۃ، الحریۃ والعقوبۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ ، محاضرات فی مقارنات الادیان اور محاضرات فی المجتمع الاسلامی تحریر کیں۔ ( الأعلام للزرکلی۶/۲۶)
13. مصری ،ابو زہرہ ،محمد ،استاذ،مقدمہ شرح کتاب السیر الکبیر،مصر ،الجامعۃ القاھرۃ،۲۰۰۰ء، ص:۳۳ ۔
14. ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدر آباد ی(۱۹۰۸۔۲۰۰۲ء) حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے اور فرانس میں فوت ہوئے۔ابتدائی تعلیم حیدر آباد میں حاصل کی فرانسیسی زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا اور دو جلدوں پر مشتمل سیرت لکھی۔ کثیر تعداد میں تحقیقی کتب تحریر کیں جن میں : Muslim Conduct of State, ،( ، رسول اللہ ﷺ کی حکمرانی و جانشینی ،اسلام کا قانون بین الممالک ترجمہ وغیرہ شامل ہیں ) (ڈاکٹر محمد حمید اللہ :محدث تذکرہ خورشید احمد (
15. Hamidullah,The Muslim Conduct ,P.3 ,Sh. Muhammad Ashraf ,7-Aibak Road ,Lahore-Pakistan.
16. Sir John William Salmond KC (3 December 1862 - 19 September 1924) was a legal scholar, public servant and judge in New Zealand..His Publications: Jurisprudence or the Theory of the Law ,The Law of Torts (1907)
17. John Salmond, Jurisprudence ,All Pakistan Leagal Decisions church road Lahore,P17-18
18. محمد طاہر القادری ،ڈاکٹر،اسلام اور اہل کتاب ، لاہور:منہاج القرآن پبلیکیشنز،۲۰۱۵ء،ص:۴۴۲
19. محمد حمید اللہ ، ڈاکٹر،خطبات بہاول پور ، بہاول پور:اسلامیہ یونیورسٹی ،ص:۳۵
20. بخاری، محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحیح،کتاب الجہاد ،باب الحرب خدعۃ، بیروت: دار الکتب العلمیۃ،۲۰۰۲ء، ۴/۶۴،مسلم بن حجاج قشیری ، الجامع الصحیح ،کتاب الجہاد ، باب جواز خداع فی الحرب ،بیروت : دار الکتب العلمیۃ،۲۰۰۲ء،۳/۱۳۶۲
21. ذہبی ، محمد بن احمد بن عثمان ،تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر الاعلام، دار الغرب الاسلامی ،۲۰۰۹ء، ۲/۱۱۳۹، ذہبی ، محمد بن احمد بن عثمان،تذکرۃ الحفاظ، بیروت : دار الکتب العلمیۃ ،۱۹۹۸ء، ۱/۶۲
22. ربعی،محمد بن محمد ،عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر،بیروت: دار القلم،۱۹۹۳ء، ۱/۸۱ ،صفدی ،صلاح الدین ،الوافی بالوفیات، بیروت:دار احیاء التراث ،۲۰۰۰ء،۲/۳۲۹
23. تذکرۃ الحفاظ لذہبی۵/۳۳۷
24. بخاری ،محمد بن اسماعیل ،التاریخ الکبیر،حیدر آباد ، دکن :دائرۃ المعارف العثمانیہ ، ۱۳۶۰ھ،۷/۳۱، تاریخ الاسلام للذھبی ۲/۱۱۳۹، الاعلام للزرکلی ۴/۲۲۶، سیر اعلام النبلاء ۴/۴۲۱
25. ابن کثیر،اسماعیل بن عمر بن کثیر ،ابو الفداء الدمشقی (701۔774ھ)۔ ملک شام کی ایک بستی میں پیدا ہوئے اور دمشق چلے گئے وہیں وصال ہوا۔ آپ نے جو کتب تحریر کیں ان میں : البدایۃ والنھایۃ ، تفسیر القرآن العظیم ، شرح صحیح البخاری ، طبقات الفقہاء الشافعیین شامل ہے۔ (الاعلام للزرکلی۱/۳۲۰(
26. ابن کثیر، محمد بن اسماعیل، البدایۃ والنھایۃ،بیروت:دار الفکر العربی،۱۹۸۶ء، ۹/۱۰۱۔
27. ابن ندیم ، محمد بن اسحاق بن محمد بن اسحاق ابو الفرج بن ابی یعقوب الندیم (438ھ م) ۔ معتزلی ،ابن ندیم نے جو کتب تحریر کیں ان میں : الفہرست ، التشبیھات شامل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ابن ندیم معتزلی ہے اور بعض نے اشاعرہ میں شمار کیا ہے ۔ ان کا تعلق بغداد سے تھا ۔ (الاعلام للزرکلی ۶/۲۹)
28. ابن ندیم ،محمد بن اسحاق ،ابو الفرج ،الفہرست،بیروت:دار المعرفۃ ،۱۹۹۷ء ،ص:۲۴۴
29. ۔الاعلام للزرکلی ۳/۵۹
30. خطبات بہاول پور ،محمد حمید اللہ ،ص: ۱۵۸
31. المزی ، یوسف بن عبد الرحمن،: تہذیب الکمال،بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ،۱۹۸۰ء، ۲۶/۴۴۲
32. الشیرازی ، ابو اسحاق ابراہیم بن علی ،طبقات الفقہاء، بیروت: دار الرائد العربی ،۱۹۷۰ء،۱/۶۳ ،تہذیب الکمال لمزی ۲۶/۴۲۰
33. معجم المؤلفین ،۱۲/۲۱
34. ذہبی ، محمد بن احمد بن عثمان،الکاشف،جدۃ:دار القبلۃ لثقافۃ الاسلامیۃ، ۲/۱۵۶،تاریخ الاسلام للذھبی ۴/۱۹۳،تذکرۃ الحفاظ للذھبی ۱/۱۳۰، سیر اعلام النبلاء للذھبی ۶/۴۹۲،ابن حجر عسقلانی ،احمد بن علی،لسان المیزان،ہند:دائرۃ المعرف النظامیۃ،وبیروت:مؤسسات الاعلمی للمطبوعات،۹/۴۰۲، طبقات الحفاظ للسیوطی ۱/۸۳
35. سیوطی ، عبد الرحمن بن ابی بکر ، جلال الدین ،طبقات الحفاظ ، بیروت :دار الکتب العلمیۃ،۱۹۹۸ء،۱/۸۳
36. معجم المؤلفین، ۱۲/۲۱ ، الوافی بالوفیات، ۲/۳۲۹
37. کوثری ،محمد زاہد بن حسن ، (1296۔1371ھ)دوزجہ میں پیدا ہوئے اور جامع الفاتح میں تعلیم حاصل کی۔فقہ حنفی سے تعلق تھا ۔ ۔ کئی کتب تحریر کیں جن میں : تانیب الخطیب ، محمد بن الحسن الشیبانی ، ابو یوسف القاضی شامل ہیں ۔ (الأعلام ۶/۱۲۹(
38. ابو الوفاء افغانی،سید :مقدمہ الرد علی سیر الاوزاعی ، کراچی :ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ، ص:۴
39. سیر اعلام النبلاء ۸،/۵۳۹
40. ابن سعد، محمد بن سعد بن منیع، الطبقات الکبری، بیروت :دار الکتب العلمیۃ ،۱۹۹۰ء،۷/۳۴۷۔
41. تعجیل المنفعۃ ۱/۳۶۱،تہذیب الاسماء ۱/۱۰۲ زین الدین ،قاسم بن قطلوبغا ،تاج التراجم فی طبقات الحنفیۃ ،دمشق،دار القلم،۱۹۹۲ء۔۱/۱۸،الوافی بالوفیات ۱/۲۸۵
42. طرطوسی ،نجم الدین ابراھیم بن علی،تحفۃ الترک فیما یجب ان یعمل فی الملک ، بیروت :دار الکتب العلمیۃ،س ن،۱/86
43. ابن حجر عسقلانی ، احمد بن علی ، تہذیب التہذیب ، ہند:مطبعۃ دائرۃ المعارف النظامیۃ،۱۳۲۶ء۔ ۹/۲۳
44. ذہبی ، سیر اعلام النبلاء، ۱۰/۶
45. ابن حجر عسقلانی ،تہذیب التہذیب ،۹/۲۶
46. طبقات الحفاظ للسیوطی، ۱/۴۹
47. ایضاً، ۳/۱۸۹ ۴
48. ۱ایضاً، ۵/۲۰۶
49. قاسم بن قطلوبغا حنفی:تاج التراجم فی طبقات الحنفیۃ ۱/۱۸
50. الأعلام للزرکلی۶/۲۶
51. فاروقی، لطف الرحمن: ڈاکٹر محمد حمید اللہ ۔ ایک بے مثال محقق، اسلام آباد:ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ ۔ خصوصی شمارہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نمبر ، ج۹،شمارہ۱۰(مارچ،2013)، ص:۴۷
52. البقرۃ :193
53. المبسوط للسرخسی 10/31
54. مودودی ،سید ابو الاعلیٰ ،الجہاد فی الاسلام ،لاہور ،ادارہ ترجمان القرآن ،2009ء ،ص:29
55. بین الاقوامی تعلقات ،وھبہ زحیلی ،ڈاکٹر ، ترجمہ ، مولانا حکیم اللہ ، اسلام اآباد ، شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، 2010ء ،ص: 43
56. The speach and table talk of the Prophet Mohammad ,London Macmillan,1882, p:33
57. A Study of History, Arnold Toyn, Vo12
58. ہفت روزہ ،اخبار جہاں ،کراچی ،25 دسمبر،1995ء ۔
59. قریشی ،محمد اشتیاق ،پاکستان ناگزیر تھا ،کراچی ، جامعہ کراچی ،ص:150
60. الجامع الصحیح للبخاری 3/1098، الجامع الصحیح لمسلم 3/1364
61. السیر الصغیر لمحمد بن الحسن الشیبانی 1/249
62. سید مودودی ،الجہاد فی الاسلام ، ص:223
63. روزنامہ ڈان ، کراچی ،20 دسمبر 1998ء۔
64. یوسف قرضاوی ، اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے حقوق ، ص:114
65. المسند لاحمد بن حنبل 1/300، المسند لابی یعلی 4/422
66. السیر الکبیر لمحمد بن الحسن الشیبانی 4/196
67. امام محمد بن الحسن الشیبانی اور ان کی فقہی خدمات ،ص:436
68. السیر الصغیر 1/110
69. المبسوط للسرخسی 10/5
70. وہبہ زحیلی ، العلاقات الدولیۃ فی الاسلام ،ص: 40
71. سیرۃ الرسول ، محمد طاہر القادری ، 7/720
72. سرخسی ، شرح السیر الکبیر 1/1024
73. سرخسی ، شرح السیر الکبیر 1/1024
74. وہبہ زحیلی ،العلاقات الدولیۃ فی الاسلام ،ص:10
75. دسوقی ،امام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ،ص:400
76. المسند احمد بن حنبل 6/306
77. العلاقات الدولیۃ فی الاسلام ،وہبہ زحیلی ،ص: 120
78. المبسوط للسرخسی 10/92
79. امام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ،ص:400
80. سید مودودی ،الجھاد فی الاسلام ،ص: 232
81. ابن حبان ، الصحیح 1/423
82. کتاب الاصل لمحمد بن الحسن الشیبانی 5/39
83. سید مودودی ، الجھاد فی الاسلام ،ص:240
84. الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ،ص: 402