برمائی حیوانات کےاحکام فقہ اسلامی کی روشنی میں Directives of Amphibians in the light of Islamic Jurisprudence Section Urdu

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

Aqsa
Prof. Dr. Muhammad Ijaz

Abstract

Abstract: Islamic jurisprudence specifies which foods are lawful and which are unlawful. The commandments found in the Qur'an, and Sunnāh reveals that “God created every living creature from water. Some of them walk on their bellies, some walk on two legs, and some walk on four. God creates whatever He wills. God is Omnipotent”. (Quran 24:45) The basic research question in this article is that Amphibians are lawful or unlawful for the eating purpose of human being. In this perspective it is stated that there are many deviated exegeses for permissible and forbidden of reptiles in each school of thought. Reptiles are tetra pod animals in the class Reptilia, comprising turtles, crocodilians, snakes, amphibians, and their extinct relatives. The study of these traditional reptile orders, historically combined with that of modern amphibians, is called herpetology. The following research question is addressed in this article that the modern zoology divided animals into different classes. According to this all aquatic animals are permissible or forbidden or they are described in details. This objective also addresses that what is the opinion of ancient and modern jurists about the condition and sanctity of animals?


In Hanāfi school of thought: all Amphibians are forbidden to eat because they are harmful. In Shafaii school of thought: also said that all Amphibians are forbidden to eat. Māliki school of thought: all Amphibians are forbidden only certain type of frogs may be eaten. But the rule is that everything which we are forbidden to kill, we are not allowed to eat because the correct view is that to be on the safe side. Hanbli school of thought: Crocodile and Frogs are forbidden to eat but turtle is permissible to eat after slaughtering. In Shia school of thought: all are forbidden. In summarized, the rule is that in the case of animals that live both on land and water, the rules concerning land animals should be given precedence, to be on the safe side.

##plugins.themes.academic_pro.article.details##

How to Cite
Aqsa, & Prof. Dr. Muhammad Ijaz. (2022). برمائی حیوانات کےاحکام فقہ اسلامی کی روشنی میں. Al Qalam, 26(2), 94-110. https://doi.org/10.51506/al qalam.v26i2.1657

References

۔ المائدہ 5: 88 ؛ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
Al- Maidah 5: 88
۔ الاعراف 7: 157 ؛ وہ ان کو نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں۔
Al- Aaraaf 7:157
۔ برمائی دراصل’’بری مائی‘‘کامرکب ہےیعنی وہ حیوان جوخشکی پربھی رہ سکتاہےاورپانی میں بھی۔ علم الحیوانات میں اس قسم کےحیوانات کے گروپ کو Amphibian کہا جاتا ہے۔
۔ معجم الحیوان،ص:۹۔10
Mujam-al-Haiwan,p.9-10
۔ المنتقی،شرح مؤطا،۳/۱۲۹
Al-Mutaqah Sharah Muwatah,
۔ https://www.google.com/search?q=what+is+Reptiles,Retreuved 29 January,2020 ; https:// en.m.Wiki pedia . org/wiki/Reptials_animal, Reterieved 29 January,2020
۔ https://www.google.com/search?q=definition+of+Reptials, Reterieved 29 January,2020

۔ بہت سے جل تھلیوں میں سانس لینے کے لیے پھیپھڑے ہوتے ہیں لیکن بعض اپنی جلد کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ کچھ سمندری چھپکلیاں (Salamanders) مچھلیوں کی طرح گلپھڑوں سے سانس لیتی ہیں ۔ جل تھلیے انڈے دیتے ہیں۔ جن کا گیلا رہنا بہت ضروری ہوتاہے۔ اکثر جل تھلیے پانی ہی میں رہ کر انڈے دیتے ہیں جو انڈے پانی میں د یے جاتے ہیں ان میں سے غوکچے (Tadpoles)یا آزادانہ تیرنے والے لاروے نکلتے ہیں ۔ یہ پانی میں رہتے ہیں اور گلپھڑوں سے سانس لیتے ہیں۔ جب یہ بالغ ہوجاتے ہیں تو پانی سے باہر نکل سکتے ہیں اور پھیپھڑوں سے سانس لینا شروع کردیتے ہیں۔
۔ ارودسائنس انسائیکلوپیڈیا،۱/۷۹تا۸۱؛
۔ بے پایاں: جل تھلیوں کی ٹانگیں نہیں ہوتیں یہ کینچوؤں جیسے جاندار ہیں اورحاری خطوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی بعض انواع پانی میں لیکن زیادہ تر نمدار مٹی میں بل بنا کر رہتی ہیں۔
۔ یورڈیل یا دمدار:جل تھلیوں میں دمیں موجود ہوتی ہیں ۔ سلامینڈراور نیوٹ (Neut)دم دار جل تھلیے ہیں۔ بہت سے یوروڈیل مکمل طور پر خشکی پر رہنے والے جانور ہیں یعنی انہیں پانی میں واپس نہیں جانا پڑتا۔ کچھ سلامینڈرایسے بھی ہیں جو پانی سے باہر کبھی نہیں نکلتے جیسے کہ مڈ پپی (Mudpuppy)وغیرہ۔
۔ انورانزیابےدم: پانی اور خشکی والے مینڈک ہیں۔ مینڈکوں کی دو اقسام فراگ یا برساتی مینڈک اور ٹوڈ یا گھریلو مینڈک ہیں ۔ پانی میں رہنے والے مینڈک پانی کے نزدیک خشکی پر بھی رہ سکتے ہیں ۔بری یا خشکی پر رہنے والے پانی سے دور بھی جاسکتے ہیں۔
۔ بل فراگ فائیلم کا رڈیٹا سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مشرقی اور وسطی امریکہ کے علاقوں میں ملتا ہے ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ لمبائی ۲۰سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کا رنگ سبز ہوتاہے ۔ البتہ جسم کے کچھ حصوں پر یہ رنگ گہرا ہوجاتاہے۔ اس کی جلد چکنی اور پھسلن زدہ ہوتی ہے کیونکہ اس پر ہر وقت ایک چپ چپا سا مادہ میوکس (Mucus)لگا رہتاہے اور یہ خشک نہیں ہوپاتا کیونکہ اس کا تعلق جل تھلیوں کی کلاس سے ہے۔ اس لیے یہ پانی میں یا پانی کے قریب خشکی پر رہتاہے۔
۔ السنن الکبریٰ للبیہقی،۹/۳۱۷
۔ سنن ابوداؤد،رقم الحدیث :۵۲۶۹؛علامہ سلمیٰ ؒفرماتے ہیں کہ میں نے دار قطنی سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایاکہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ جب کہ علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں کہ میں یہ کہتاہوں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے ۔ یہ بات علامہ بیہقیؒ نے بیان کی ہے ۔ علامہ زمخشری ؒ فرماتے ہیں کہ مینڈک اپنی ٹرٹراہٹ کی آواز میں یوں کہتاہے :(سبحان الملک القدوس)
۔ حیاۃالحیوان،۲/۲۳۹،۳۷۷؛سنن ابوداؤد،کتاب الطب،باب فی الادویۃالمکروھۃ،رقم الحدیث:۳۸۷۱
۔ مسنداحمد،۵/۲۷۵
۔ ابن عدی،الکامل فی الصنعفاء،۲۳۸۴؛ عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ۔ مینڈک نے خوف باری تعالیٰ کی وجہ سے خود کو آگ میں گرادیا تھاتو اللہ نے اس کو پانی میں ٹھہرانے کی صورت میں گویا ثواب اور بدلہ عطا فرمایا اور اللہ نے اس کی ٹرٹراہٹ کو اپنی تسبیح بنادیا۔
۔ حیاۃالحیوان،۲/۲۰۳؛ ابن سبعؒ نے اپنی کتاب ’’شفاء الصدور ‘‘میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :((لاتقتلوالضفادع فان نقمقھن تسبیح ))’’تم مینڈکوں کو مت قتل کرو اس لیے کہ ان کی ٹرٹراہٹ تسبیح ہے۔ مینڈکوں کو مت قتل کرو اس لیے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنے منہ میں پانی اٹھایا ہواتھا اور وہ اس پانی کو آگ پر چھڑکنے لگے۔
۔ حیاۃالحیوان،۱/۲۴۳؛ القزوینی،عجائب المخلوقات،ص:۱۰۵؛اردوسائنس انسائیکلوپیڈیا،۲/۳۸۴
۔ حیاۃ الحیوان، ۱/ ۹۲
۔ ماہراحمدالصوفی،آیات اللٰہ فی خلق الحیوانات البریۃوالبحریۃ،ص:۱۴۱؛ کچھوے کے انڈے ساحلی علاقوں کی مرغوب ترین ڈش ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں کچھوے کے گوشت اور انڈوں کی بکثرت تجارت ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے کچھوے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے رفتہ رفتہ معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
۔ فاکھۃالبستان فی مسائل الذبح وصیدالحیوان،ص:۲۵۵
۔مسند احمد،۵/ ۲۷۵ ؛کتاب الحیوان،۲/۵۶؛ اس سےکنگن اورکنگھیاں تیار کی جاتی ہیں جب کہ امام مالک ؒکے نزدیک اس کو ”صیقل“ کر دیا جائےتوپاک ہوجائےگی تو اس وقت اس سےکنگھی بناکربالوں میں پھیرناجائزہوگا ایسی کنگھی کو”زبل“کہتے ہیں اوراسی پرہی اس بات کومحمول کیاجائےگا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں وہ عاج جوکہ ہاتھی کی ہڈی سےکوئی چیزبنائی جاتی ہے وہ نجس ہےجب کہ امام ابوحنیفہؒ کےنزدیک پاک ہے۔
۔ شرح الکنز(رمزالحقائق فی شرح کنزالدقائق)،ص:۳۱۴
۔ حاشیہ ابن عابدین،۶/۳۷۱
۔ الاعراف۷: ۱۵۷
۔ الاحکام فی اصول الاحکام،۳/۲۱۵؛حیاۃالحیوان الکبریٰ،۲/۲۴۸
۔ الاحکام فی اصول الاحکام،۳/۲۱۵؛حیاۃالحیوان الکبریٰ،۲/۹۷۳،۹۷۴
۔ اشرف الہدایۃ (اردوشرح ہدایۃ) ،تالیف :مفتی محمدیوسف احمدتاڈلوی،فصل فیما یحل اکلہ ومالا یحل، دارالاشاعت کراچی،۲۰۰۹ء،۱۱/ ۲۳۱
۔ حنابلہ اورمالکیہ کہتےہیں کہ دریائی کچھواذبح کرنےکےبعدحلال ہے ۔ رہابری کچھواسواسےحرام قراردینےکوترجیح دی گئی ہے۔
۔ عبدالرحمن الجزیری،کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ،کتاب الحظروالاباحۃ ،علماءاکیڈمی شعبہ مطبوعات،لاہور،۱۹۹۱ء،ص:۷۔۸
۔ الموسوعۃالعلمیۃالحدیثیۃالحیوانات،۷/۵۴؛ مگرمچھ ، خزندے،مچھلی،ممالیا جانوروں اور گھونگوں وغیرہ کو کھاتے ہیں۔ اس کی کھال سے جوتے ، پرس اور بیلٹ وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ دنیا کے بعض خطوں میں اس کاگوشت بھی کھایاجاتا ہے ۔ اسی لیے انہیں فارموں میں بھی پالا جاتاہے۔
۔ فاکھۃالبستان فی الذبح وصیدالحیوان،ص:۲۰۵
۔ ایضاً، ص: ۲۰۶
۔ علامہ قزوینی،عجائب المخلوقات،ص:۷۸؛ ۳۰۔حیات الحیوان،۱/۴۱۳
۔ سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث:۲۳۵۷؛۲۳۸
۔ فاکھۃالبستان فی مسائل ذبح وصیدالطیروالحیوان،ص:۲۷۳
۔ البابرقی،محمدبن محمود،عنایۃشرح الہدایہ،داراحیاءالتراث العربی،بیروت،س۔ن؛ علی بن عثمان،محمدتمیمی،(م۵۶۹ھ) فتاویٰ سراجیہ،زمزم پبلشرز، کراچی، س۔ ن، ۷/۱۹۸؛ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: الجری مچھلی یہود نہیں کھاتے اور ہم کھا لیتے ہیں ۔ علامہ عینی کہتے ہیں یہ ایسی مچھلی ہوتی ہے جس کے چھلکے (چانے) نہیں ہوتے۔ الوقایہ میں ہے: الجریت مچھلی کی ایک قسم ہے۔
۔ الانصاری،عالم بن العلاءفتاویٰ التاتار خانیہ،ادارۃالقرآن کراچی،۱۳۹۵ھ،۸/۴۹۶؛
۔ سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث:۳۲۴۹
۔ مسند احمد، ۱/۲۳۰
۔ مصنف ابن ابی شیبہ،۳۴۱۸۷
۔ الحیاۃالحیوانْ،۱/۶۹۷
۔ امدادالفتاویٰ معروف بہ فتاویٰ اشرفیہ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی،باب:کھانے پینے کی حلال و حرام مکروہ و مباح چیزوں کا بیان،ادارہ اشرف العلوم، کراچی، ۱۳۸۰ھ، ۱/ ۹۹؛ بدائع الصنائع،۵/۳۵
۔ عثمان بن علی بن محجن الزیلعی،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،دارالکتب الاسلامی،القاہرہ،۵/۲۹۷؛بدائع الضائع فی ترتیب الشرائع،۶/۱۳۵
۔ حیاۃالحیوان،۱/۴۲۷
۔ کتاب الحیوان،۱/۲۹۷
۔ بدائع الضائع فی ترتیب الشرائع،۶/۱۳۵
۔ سلسلہ جدید فقہی مباحث مع تقریظ علمائے کرام ، زیر سرپرستی حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،تحقیقات اسلامک اکیڈمی انڈیا ، دار الا شاعت ، کراچی، ۲۰۱۷ء،۵/۱۷۵؛ابن عابدین ،۹/۴۴۴؛المغنی، ۱۱/۱۸۵؛المجموع، ۹/۲۸
۔ المحلیٰ،۷/۳۹۸
۔ المجموع،۹/۳۲،۳۳؛نیزدیکھیے: نھایۃالمحتاج،۸/۱۵۲؛حیاۃالحیوان الکبری،۱/۴۷۲
۔ احمدبن محمدبن علی بن حجرہیثمی(م۹۷۴ھ) مصرکےمشہور شافعی فقیہ اوربہت سی کتابوں کے مصنف تھےجن میں فقہ شافعی کی کتاب’’تحفۃالمحتاج لشرح المنہاج‘‘مشہورومطبوع ہے۔( الاعلام،۱/۲۳۴)
۔ المجموع،۹/۳۲،۳۳؛نیزدیکھیے: نھایۃالمحتاج لشرح المنھاج،۸/۱۵۲؛حیاۃالحیوان الکبریٰ،۱/۴۷۲
۔ المغنی والشرح الکبیر،۱/۸۴۱؛الانصاف،۱۰/۳۲۴؛المقنع فی فقہ الامام احمد،۳/۵۲۹
۔ المحلیٰ،۷/۳۹۸
۔ المغنی،۱۱/۱۸۵؛المجموع،۹/۳۰؛سلسلہ جدید فقہی مباحث،۵/۱۷۵
۔ سنن ابن ماجہ،کتاب الاطعمۃ باب اکل الجبن ،رقم الحدیث: ۲۸۱۵،۳۳۶۸
۔ مجمع الزوائد،۱۰/۱۷۱؛مستدرک حاکم،۲/۳۷۵