مغربی فکر کی اخلاقی اساسیات اور اسلام: تقابلی مطالعہ Moral foundations of Western thought and Islam: A comparative study Section Urdu

##plugins.themes.academic_pro.article.main##

Atika Aslam
Prof. Dr. Tahira Basharat

Abstract





Ethics is the second one name of good manners. Importance of ethics cannot be neglected in the society. The existence of goodness in the society and evil must be ended in the society is the basic demand of ethics. Ethics related to religion, society and philosophy. Thoughts and ideas of philosophy can give to human a moral perspective but esoteric training is not possible with them. When morality is certified by religion, man develops the ability to act. The foundations of morality were shaken when attempted to limit the intrusion of religion into the western way of life, because the ethical concepts given by the religion cannot be provided by the system basis on the rationalism.





##plugins.themes.academic_pro.article.details##

How to Cite
Aslam, A., & Prof. Dr. Tahira Basharat. (2022). مغربی فکر کی اخلاقی اساسیات اور اسلام: تقابلی مطالعہ. Al Qalam, 26(2), 181-194. https://doi.org/10.51506/al qalam.v26i2.791

References

-غزالی،ابوحامد محمد بن محمد، احیاء العلوم الدین، شرکۃ مکتبۃ، مصر، 1308ھ، ج:3، ص:50
- سیوہاروی، حفیظ الرحمن، مولانا، اخلاق اور فلسفہ اخلاق، خالد مقبول پبلشرز، لاہور، مارچ 1976ء
-Encyclopedia of Philosophy, vol: 3, P:81,82
-Encyclopedia of Social Sciences, vol:6, P:602
-New Catholic Encyclopedia, vol:5, P:388
۔ برق ،غلام جیلانی، ڈاکڑ،یورپ پر اسلام کے احسان،شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور،ص:36
۔ولیم للی، تاریخ اخلاقیات،مترجم: سید محمد احمد سعید ، شعبہ تصنیف و تالیف کراچی یونیورسٹی ،کراچی، 1982،ص:115
۔ ایضاً، ص:116۔117
۔سید قطب شہید،جدید جاہلیت،مترجم:ساجد الرحمن صدیقی،البدر پبلیکیشنز،لاہور،1980،ص:32
۔ریپو پارٹ، فلسفہ کی پہلی کتاب، مترجم:میر ولی الدین، دار المصنیفین اعظم گڑھ ،1921،ص:43۔44
۔ قسطنطین اول نے بعض مصالح کی بنا پر۳۳۰؁ میں قسطنطنیہ کو پایہ تخت بنا لیا تھا۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے سلطنت تقسیم کر لی اور غربی شاخ کا فرمانروا الگ ہو گیا ۔۳۵۳؁ میں دونوں حصے پھر ایک بادشاہ کے تحت آگئے،لیکن یہ وحدت عارضی ثابت ہوئی اور ۳۶۴؁ میں یہ دونوں شاخیں مستقلاًجدا ہو گئیں۔غربی شاخ رومن امپائر اور شرقی شاخ بائزنٹائن امپائر کے نام سے مشہور ہوئیں۔مسلم مؤرخ ثانی الذکر شاخ کو قیاصرہ کہتے ہیں۔
۔لیکی، ایڈورڈہارٹ پول، تاریخ اخلاق یورپ ، مترجم:عبد الماجد دریا آبادی ،سٹی بک پوائنٹ، کراچی،2016،ص:104
۔ڈریپر،جان ولیم،ڈاکڑ، معرکہ مذہب و سائنس،مترجم:مولانا ظفر علی خان،الفیصل ناشران،لاہور،2004 ،ص:379۔380
۔رابرٹ بریفالٹ،تشکیل انسانیت ،مترجم:عبدالمجید سالک،مجلس ترقی ادب لاہور،1999،ص:219،222
۔ یورپ پر اسلام کے احسان ،ص:80
۔تایخ اخلاق یورپ،ص:151
۔ معرکہ مذہب و سائنس،ص:379
۔ گستاؤلی با ن ،ڈاکڑ،تمدن عرب ,مترجم :سید علی بلگرامی، اعظم اسٹیم پریس ،حیدرآباد دکن، ص:372۔373
۔ تعارفِ اخلاقیات ، ص:120۔121
۔ سید محمد سلیم ، پروفیسر، مغربی فلسفۂ تعلیم کا تنقیدی مطالعہ ، کتاب محل،لاہور،ص169۔170
۔محمد حسن عسکری: جدیدیت ،ادارہ فروغ اسلام،لاہور،1997، ص:66۔67
۔ سید قطب شہید، اسلام اور مغرب کے تہذیبی مسائل ،مترجم: ساجد الرحمن صدیقی، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور،س ن،ص:121
۔ ایضا ،ص:121
۔اعظمی، سعید الرحمان ندوی، اسلام اور مغرب،انسٹی ٹیویٹ آف آبجیکٹو سٹڈیز، دہلی،2012، ص:43
۔ محمد قطب،شہید، انسانی زندگی میں جمود و ارتقاء،مترجم:ساجد الرحمن صدیقی ،اسلامک پبلیکیشنز، لاہور،س ن ،ص:341۔342
۔ ول ڈیورینٹ: نشاطِ فلسفہ ، مترجم:ڈاکڑ محمد اجمل، فکشن ہاؤس ، لاہور، ص143۔144